اردو

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیرفرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

سورۃ الحج۔ سورۃ: ۲۲، آیت: ۳۶

فلسفۂ قربانی اور اس کی حقیقت

تحریر: مفتی محمد سلمان اکبر

دینِ اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے، جن میں فریضہ حج اسلام کا ایک اہم اور صاحبِ استطاعت پر لازمی رکن ہے۔ اس عظیم و مقدس فرض کی ادائیگی کے ذریعے حجاج کرام سنتِ ابراھیمیؑ کی اتباع کرتے ہوئے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں جو حضرت ابراھیمؑ نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت اسمائیلؑ کی اپنے ربِّ عظیم کے سامنے پیش کر کے عبدیت کا مخلصانہ اور عاجزانہ اظہار فرمایا۔ اللہ تعالٰی نے نہ صرف اس قربانی کو شرفِ قبولیت بخشا، بلکہ حکم ربی کے تحت حضرت اسمائیلؑ کی جان بھی بچ گئی (سورۃ الصافّات۔ سورۃ: ۳۷، آیت: ۱۰۲ - ۱۱۰)۔ اس کے بعد حکم باری تعالٰی ہوا کہ تم دونوں مل کر کعبۃ اللہ کی تعمیر کرو۔ اس حکم کی بھی تعمیل کی گئی۔ اس طرح اللہ تعالٰی کے اس مقدس گھر کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر پروردگارِ عالم سے دعا کی۔ دعا کی برکت سے اللہ تعالٰی نے دنیا بھر کی ہدایت و راہبری کے لیے حضور رسالت مآب ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو حضرت ابراھیمؑ کی اولاد میں پیدا فرما کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دینِ اسلام کو زندہ و پائندہ حقیقت میں بدل دیا (سورۃ البقرۃ۔ سورۃ:۲، آیت: ۱۲۵ - ۱۲۹)۔

عید الاضحٰی حضرت ابراھیمؑ اور حضرت اسمائیلؑ کی اسی عظیم اور بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے تمام عالمِ اسلام میں ۱۰ ذی الحجہ کو بڑے جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے۔ قربانی کا لفظ "قربان" سے نکلا ہے۔ عربی زبان میں قربانی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالٰی کا قرب حاصل کیا جائے، خواہ وہ ذبیحہ ہو یا صدقہ و خیرات۔ لیکن عرفِ عام میں یہ لفظ جانور کے ذبیحہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں یہ لفظ چند جگہ مستعمل ہوا ہے اور اکثر مواقع پر جانور کا ذبیحہ ہی مراد ہے۔ عربی زبان میں قربانی کے لیے تین اور لفظ بھی استعمال ہوئے ہیں:

۱۔ النسک: اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ہوا ہے اور عموماً اس سے قربانی مراد لی گئی ہے۔
۲۔ النحر: اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں سورۃ الکوثر میں ہوا ہے، ارشاد ربانی ہے: "پس نماز پڑھیے اپنے رب کے واسطے اور قربانی کیجیے"۔
۳۔ الاضحیۃ یا الضحیۃ: اس لفظ کا استعمال اگرچہ قرآنِ کریم میں نہیں ہوا البتہ احادیث میں بکثرت یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔

قربانی ان اسلامی شعائر میں سے ہے جن کی مشروعیت اس وقت سے ہے جب سے حضرت آدمؑ اس دنیا میں تشریف لائے اور دنیا آباد ہوئی اور پھر امتِ محمدؐ تک تقریباً ہر ملت و مذہب والے اس پر عمل پیرا رہے ہیں۔ اس کی تصریح خود قرآن کریم نے کر دی ہے، چنانچہ سورۃ المائدہ میں ہابیل و قابیل کا مشہور واقعہ ذکر کر کے حضرت آدمؑ کے زمانے سے اس کی مشروعیت کی طرف اشارہ کیا گیا اور پھر ہر امت کے اس پر عمل پیرا رہنے کی تصریح سورۃ الحج میں کردی گئی، چنانچہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو

سورۃ الحج۔ سورۃ: ۲۲، آیت: ۳۴

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ہر امت میں اللہ کے نام پر قربانی کرنا مشروع رہا ہے، البتہ سابقہ امتوں اور امتِ محمدیؐ کے درمیان قربانی میں فرق یہ ہے کہ سابقہ امتوں کی قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمانی آگ اسے کھا جاتی تھی، قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں تھی۔ جب کہ امتِ محمدیؐ کو اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ خصوصی انعام حاصل ہے کہ ان کے لیے قربانی کا گوشت حلال کردیا اور اس کے کھانے کی اجازت دے دی گئی۔

نبی کریمؐ نے عید الاضحٰی کے روز قربانی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

یوم النحر یعنی عید کے روز ابنِ آدم جو بھی کام کرتا ہے، اس میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ کے نزدیک (قربانی کا) خون بہانا ہے اور قیامت کے روز وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے اعمال نامے میں قربانی کے جانور کے سینگ، اس کے بال اور اس کے گھر بھی شمار ہوں گے اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، اس لئے تم بطیّب خاطر قربانی کیا کرو۔

اس حدیث شریف میں ہر اس مسلمان کے لیے خوشخبری ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت و ارادہ رکھتا ہو۔

صحابۂ کرامؓ نے حضورؐ سے سوال کیا، یا رسول اللہؐ! قربانی کی حقیقت کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: "یہ تمہارے باپ ابراھیمؑ کا طریقہ ہے"۔

یہ حضرت ابراھیمؑ کا طریقہ اور سنت ہے جس پر چلنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

پھر حکم بھیجا ہم نے تجھ کو کہ چل دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور نہ تھا وہ شرک والوں میں

سورۃ النّحل۔ سورۃ: ۱۶، آیت: ۱۲۳

صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! ہمیں اس قربانی پر کیا ثواب ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: قربانی کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ (بھیڑ، دنبے کی) اون میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔

مسند احمد

قربانی ایک ایسی عبادت ہے جس پر نبی کریمؐ مدنی زندگی کے دس سال عمل فرماتے رہے۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے، نبی کریمؐ نے قربانی کے دن سینگوں والے دو خوبصورت دنبے ذبح فرمائے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ریاکاری سے بچائے۔ آمین

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔