اردو

قرابت داروں کا حق

جمع و اعداد:عبد الرازق

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ (۲۶) کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے (۲۷) اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو (۲۸) اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کوکچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ (۲۹) بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے (۳۰)

سورۃ بنی اسرائیل – سورۃ: ۱۷، آیت: ۲۶ - ۳۰

ان آیات میں اللہ تعالٰی نے قرابت داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی کی تلقین فرمائی ہے، اور ان کی مالی اعانت کے حوالے سے لوگوں کو متوجہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اپنا مال فضول خرچی اور شاہ خرچی کے کاموں میں نہ اڑاؤ بلکہ اپنے قریبی عزیز و اقارب، والدین، بیوی بچوں، بہنوں بھائیوں کی حقیقی ضروریات پر خرچ کرو۔ اسی طرح ان کے علاوہ دیگر ضرورت مندوں، محتاجوں اور مسافروں کی مالی طور پر امداد کرو۔ ایسے لوگوں کو حدیث میں قابلِ رشک قرار دیا گیا ہے۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "صرف دو ہی لوگ قابلِ رشک ہیں، ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالٰی نے مال و دولت عطا کیا اور اسے خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالٰی نے حکمت یعنی عقل و دانائی اور معاملہ فہمی دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق درست فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے"۔

صحیح بخاری

خصوصاً اہل و عیال کی ضروریات پر خرچ کرنے کو حدیث میں صدقہ شمار فرمایا گیا ہے:

حضرت ابو مسعود انصاریؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان آدمی اپنے اہل و عیال پر اللہ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرے تو اسے اس میں صدقہ کا ثواب ملے گا"۔

صحیح بخاری

اسی طرح ضرورت مندوں پر خرچ کرنے والوں کی فضیلت حدیث میں بیان کی گئی ہے:

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بیوہ عورت اور مسکین کے ساتھ (اچھا) سلوک کرنے والا ایسا ہے، جیسا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا یا جیسے رات کو عبادت کرنے والا اور دن کو روزہ رکھنے والا"۔

صحیح بخاری

اس کے علاوہ آیات میں لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر تنگ دستی کی وجہ سے تم کسی کی مالی اعانت نہ کر سکو تو ان سے سختی سے بات نہ کرو اور ان کی دل آزاری نہ کرو، بلکہ انہیں کسی مناسب وقت تک کے انتظار کا کہہ کر نرم بات کرو۔ آگے خرچ کرنے کا انداز بتایا کہ جب مالی وسعت ہو اور لوگوں کی ضروریات کے حوالے سے مدد کے طور پر خرچ کرنے کا جذبہ ہو تو اپنا ہاتھ اتنا کھلا نہ کرو کہ سب کچھ دے بیٹھو اور پھر ایمان کی کمزوری کی وجہ سے تنگ دستی کا رونا رؤو اور نہ اپنا ہاتھ اتنا کھینچ لو کہ بلکل گلے سے لگا لو بلکہ درمیانی روش اختیار کرو۔

آگے آیت میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے، وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کے اعمال و احوال کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے کہ کون مال کے حقوق ادا کرتے ہوئے اسے اللہ کے راستے میں، خیر کے کاموں میں اور صدقات و خیرات کے مصارف میں استعمال کر رہا ہے اور کون اسے گناہ و معصیت کے کاموں میں، ذاتی شاہ خرچیوں میں لُٹا رہا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنے مالی حقوق کو کامل طریقے سے ادا کرنے اور اللہ کے راستے میں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔