اردو

خلافتِ فاروقیؓ، ایک قابلِ تقلید دورِ حکومت (حصہ اول)

تحریر: مولانا محمد احمد لدھیانوی

خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کا عہدِ خلافت ایک مثالی، قابل فخر اور قابلِ تقلید دورِ حکومت تھا۔ آپ نے ۱۴۰۰ سال قبل اُس وقت ایک بہترین نظامِ حکومت دیا جب عرب حکومت کے بنیادی قواعد سے ناآشنا تھے۔ وسیع سلطنت کے باوجود امورِ حکمرانی پر مکمل کنٹرول، امن و امان، بنیادی ضروریات کی فراہمی، تعلیم و تربیت، عدل و انصاف اور مختلف انواع کے ترقیاتی کاموں کے اعتبار سے یہ ایک مثالی دور تھا۔ آج کے حکمرانوں کے لیے یہ دورِ حکومت مینارہِ نور ہے، اس کی روشنی میں آج اندازِ حکمرانی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دورِ فاروقی کی بعض اہم خصوصیات حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ صوبوں اور اضلاع کی تقسیم:
نظامِ حکومت کی ابتدا تقسیم کار پر ہے۔ اسلام میں حضرت عمر فاروقؓ پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے اس کا آغاز کیا اور ملک کو صوبہ جات اور اضلاع میں تقسیم کیا؛ جیسے آپ نے فلسطین کے دو صوبے بنائے، ایک کا صدر مقام "ایلیا" اور دوسرے کا "رملہ" قرار دیا۔ اسی طرح مصر کو دو صوبوں میں تقسیم کیا۔ ایک کے ۲۸ اور دوسرے کے ۱۵ اضلاع تھے۔ پھر صوبوں میں والی، کاتب، کاتبِ دیوان، صاحب الخراج (افسر خزانہ) اور قاضی ہوتے تھے۔ آج صدیوں بعد اختیارات کی تقسیم کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے زیادہ صوبے اور اضلاع بنانے اور انہیں اختیارات دینے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ اس پر بہتر طریقے سے عمل کی ضرورت ہے۔
۲۔ نئے شہروں کو بسانا:
حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بصرہ، کوفہ، فسطاط، موصل جیسے معروف شہر بسائے گئے (تاریخ طبری – فتوح البلدان)۔ ان شہروں کی تاریخ اور علمی اعتبار سے شہرت سب پر عیاں ہے۔ آج کے دور میں ہمارے شہر آبادی اور مسائل کے اعتبار سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک اور پانی جیسے کئی مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سو آج دورِ فاروقی کی تقلید کرتے ہوئے بہتر محل وقوع اور سہولیات کے ساتھ نئے شہر بسانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی مخصوص شہروں میں نقل مکانی کے رجحان میں بھی کمی آئے اور انہیں بہتر سہولیات بھی میسر آئیں۔
۳۔ عدلیہ کو رشوت سے بچانے کے اقدامات:

حضرت عمر فاروقؓ اکثر عملی اور ذاتی تجربے کے بعد لوگوں کا انتخاب کرتے تھے۔ آپ نے قاضیوں (ججز) کو ناجائز وسائل آمدنی سے روکنے کے لئے کئی اقدامات کیے: (الفاروق – شبلی نعمانیؒ)

  • ا۔ زیادہ تنخواہیں مقرر کیں تاکہ انہیں بالائی رقم کی ضرورت نہ پڑے۔
  • ب۔ ان کا دولت مند اور معزز گھرانوں سے تعلق ہو، تاکہ وہ رشوت کی طرف راغب نہ ہوں اور کسی معزز اور بااثر آدمی کا رعب ان کے فیصلے پر موثر نہ ہو۔
  • پ۔ ججز کو تجارت اور خرید و فروخت کرنے کی اجازت نہ تھی۔ یہ وہ اصول ہے جو مدتوں کے تجربات کے بعد ترقی یافتہ ممالک میں اختیار کیا گیا تاکہ ججز کو تجارت کے دوران ان سے کوئی معمولی چیز مہنگے داموں خریدنے یا مہنگی چیز سستے داموں فروخت کر کے بالواسطہ رشوت نہ دی جا سکے۔ سو آج کے دور میں عدلیہ کے علاوہ دیگر انتظامی آفیسرز کے حوالے سے بھی ایسے اقدامات کر کے رشوت سے بچایا جا سکتا ہے۔
۴۔ عدل کا ارزاں و آسان ہونا:
عہدِ فاروقیؓ میں آبادی کے لحاظ سے عدالتوں کی تعداد کافی تھی، نیز حضرت عمر فاروقؓ کے اصول اور آئین اس قدر سہل و آسان تھے کہ عدل و انصاف کے حاصل کرنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوسکتی تھی۔ آج کل مہذب ملکوں نے عدل و انصاف اور داد رسی کو ایسی قیود جکڑ دیا ہے کہ داد خواہوں کو دعوے سے باز آنا، حصولِ عدل کی نسبت آسان محسوس ہوتا ہے (الفاروق – شبلی نعمانیؒ)۔ آج کے دور میں عدل کا حصول مہنگا اور پیچیدہ ہونے کے باعث مشکل ہو گیا ہے۔ فوری، سستا اور سہل عدل و انصاف آج کی اہم ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

نوٹ: اس سائٹ پر تمام مضامین دعوتی مقاصد کے لئے ہیں اور Glare of Islam کے پیشہ ور افراد یا مضمون نگاروں کی طرف سے تحریر، ترمیم یا ترجمہ کئے گئے ہیں۔ اگر آپ ان مضامین کی نقل کرتے ہیں تو براہِ مہربانی اس سائٹ/صفحہ کا بیک لنک (Backlink) بھی دیں۔